اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایرانی سفارتخانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خواتین اور بچوں سمیت غیر مسلح شہریوں کا قتل کسی بھی ملک اور کسی بھی طاقت کے ہاتھوں ہو، انسانیت کے خلاف جرم ہے اور کسی بھی سیاسی مفاد یا سکیورٹی کے دعوے کی بنیاد پر بے گناہوں کا خون جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
بیان میں کہا گیا کہ مذاہب کا مقصد انسانی ضمیر کو بیدار کرنا اور عدل، رحم اور انسانی عزت کا پیغام دینا ہے، اس لیے مذہبی رہنما ایسے وقت میں خاموش نہیں رہ سکتے جب گھر تباہ کیے جا رہے ہوں، بچے مارے جا رہے ہوں اور خاندان اجڑ رہے ہوں۔
ایرانی سفارتخانے نے تمام مذاہب کے رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ بغیر کسی سیاسی مصلحت کے شہریوں، خواتین اور بچوں کے قتل، لوگوں کی جبری بے دخلی اور رہائشی علاقوں کی تباہی کی مذمت کریں اور امریکی حکومت و فوج سے حملے روکنے کا مطالبہ کریں۔
بیان میں خاص طور پر مسیحی مذہبی رہنماؤں سے اپیل کی گئی کہ وہ انجیل کے محبت، رحم اور انسانی ہمدردی کے پیغام کو عملی طور پر سامنے لائیں اور دنیا بھر میں بے گناہوں کے خلاف ہونے والے تشدد پر دوہرا معیار اختیار نہ کریں۔
ایرانی سفارتخانے نے زور دیا کہ کسی بھی قوم، نسل یا مذہب سے تعلق رکھنے والا بچہ سب سے پہلے ایک انسان ہے اور اسے زندگی کا حق حاصل ہے۔ بیان کے مطابق، کسی بھی جنگ یا سیاسی تنازع میں بے گناہوں کا خون ایسی قیمت ہے جسے کسی طاقت یا سیاسی مفاد کے نام پر قابل قبول نہیں بنایا جا سکتا۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ دنیا کے مذہبی مراکز کو سیاسی سرحدوں اور مذہبی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک آواز میں اعلان کرنا چاہیے کہ کوئی بچہ دشمن نہیں، کوئی ماں اپنے بچے کی جدائی کی مستحق نہیں اور بے گناہوں کے خون پر قائم ہونے والی کوئی فتح حقیقی فتح نہیں ہو سکتی۔
آپ کا تبصرہ